کچا دودھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بغیر ابال ہوا، بغیر پکایا ہوا دودھ، (مجازاً) خطا اور سہو، بھول چوک۔ "مٹیاروں کے رنگ میں دہکتے لہو کی سرخی اور کچے دودھ کی سفیدی گندم گوں ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'کچا' کے بعد ہندی سے ماخوذ اسم 'دودھ' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨١ء کو "مجموعہ ہندی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بغیر ابال ہوا، بغیر پکایا ہوا دودھ، (مجازاً) خطا اور سہو، بھول چوک۔ "مٹیاروں کے رنگ میں دہکتے لہو کی سرخی اور کچے دودھ کی سفیدی گندم گوں ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٨ )

جنس: مذکر